Description
بچپن سے ہی ہم سب شاہ جمال دربار اور وہاں موجود ایک مجاور کو دیکھتے دیکھتے بڑے ہوئے۔ اس بستی کے قریب بزرگوں کے دو ہی دربار تھے۔ ایک شاہ جمال اور دوسرا مالدے شہید کا دربار۔ دونوں کی الگ الگ کہانیاں، الگ الگ کرامات کے قصے۔ ان بزرگوں کا سایہ دریائے سندھ اور تھل صحرا کے درمیان واقع اس چھوٹے سے گائوں کے مکینوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا ۔ اس گائوں کے باسیوں کی خوشی اور غم ان بزرگوں کے دربار سے جڑے ہوئے تھے۔ ان دونوں دربار کے ساتھ کئی کہانیاں جڑی ہوئی تھیں ۔ کئی دھاگے، کئی اُمیدیں ، منتیں ترلے، ناکام عاشقوں کی محبتوں کے سلسلے بندھے ہوئے تھے ۔ شاہ جمال دربار کے اس مجاور کی یہ کہانی سچّی ہے۔ اس کہانی کا میں خود عینی شاہد ہوں ۔ اس مجاور کے غیرمعمولی کردار پر پورا ناول لکھا جاسکتا تھا۔ یہ کہانی ہمیشہ سے میرے ذہن میں تھی ۔ اب برسوں بعد جب میں نے بزرگ شاہ جمال کے اس مجاور پر لکھنے کا فیصلہ کیا تو میرا خیال تھا وہ بہت بوڑھا یا پھر شاید وفات پا چکا ہوگا۔ لیکن پتہ چلا وہ بوڑھا مجاور ابھی بھی اپنی کہانی سنانے کے لیے زندہ تھا
